Prof. Syed Mujahid Sajjad

ملاقات

Faiz Ahmed Faiz

نسخہ ہائے وفا

Published 12 October 2026

یہ رات اس درد کا شجر ہے

جو مجھ سے تجھ سے عظیم تر ہے

عظیم تر ہے کہ اس کی شاخوں

میں لاکھ مشعل بکف ستاروں

کے کارواں گھر کے کھو گئے ہیں

ہزار مہتاب اس کے سائے

میں اپنا سب نور رو گئے ہیں

یہ رات اس درد کا شجر ہے

جو مجھ سے تجھ سے عظیم تر ہے

مگر اسی رات کے شجر سے

یہ چند لمحوں کے زرد پتے

گرے ہیں اور تیرے گیسوؤں میں

الجھ کے گلنار ہو گئے ہیں

اسی کی شبنم سے خامشی کے

یہ چند قطرے تری جبیں پر

برس کے ہیرے پرو گئے ہیں

۲

بہت سیہ ہے یہ رات لیکن

اسی سیاہی میں رونما ہے

وہ نہر خوں جو مری صدا ہے

اسی کے سائے میں نور گر ہے

وہ موج زر جو تری نظر ہے

وہ غم جو اس وقت تیری بانہوں

کے گلستاں میں سلگ رہا ہے

وہ غم جو اس رات کا ثمر ہے

کچھ اور تپ جائے اپنی آہوں

کی آنچ میں تو یہی شرر ہے

ہر اک سیہ شاخ کی کماں سے

جگر میں ٹوٹے ہیں تیر جتنے

جگر سے نوچے ہیں اور ہر اک

کا ہم نے تیشہ بنا لیا ہے

۳

الم نصیبوں جگر فگاروں

کی صبح افلاک پر نہیں ہے

جہاں پہ ہم تم کھڑے ہیں دونوں

سحر کا روشن افق یہیں ہے

یہیں پہ غم کے شرار کھل کر

شفق کا گلزار بن گئے ہیں

یہیں پہ قاتل دکھوں کے تیشے

قطار اندر قطار کرنوں

کے آتشیں ہار بن گئے ہیں

یہ غم جو اس رات نے دیا ہے

یہ غم سحر کا یقیں بنا ہے

یقیں جو غم سے کریم تر ہے

سحر جو شب سے عظیم تر ہے

About Faiz Ahmed Faiz (فیض احمد فیض)

فیض احمد فیض (1911–1984) برصغیر کے عظیم اردو شاعر تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ نقشِ فریادی، دستِ صبا، زنداں نامہ اور دستِ طہِ سنگ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی غزل ”مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ“ اردو ادب کی سب سے مشہور غزلوں میں شمار ہوتی ہے۔

Read all poetry by Faiz Ahmed Faiz

More Urdu poetry by Faiz Ahmed Faiz