Prof. Syed Mujahid Sajjad

کچھ محتسبوں کی خلوت میں کچھ واعظ کے گھر جاتی ہے

Faiz Ahmed Faiz

نسخہ ہائے وفا

Published 12 October 2026

کچھ محتسبوں کی خلوت میں کچھ واعظ کے گھر جاتی ہے

ہم بادہ کشوں کے حصے کی اب جام میں کم تر جاتی ہے

یوں عرض و طلب سے کم اے دل پتھر دل پانی ہوتے ہیں

تم لاکھ رضا کی خو ڈالو کب خوئے ستم گر جاتی ہے

بیداد گروں کی بستی ہے یاں داد کہاں خیرات کہاں

سر پھوڑتی پھرتی ہے ناداں فریاد جو در در جاتی ہے

ہاں جاں کے زیاں کی ہم کو بھی تشویش ہے لیکن کیا کیجے

ہر رہ جو ادھر کو جاتی ہے مقتل سے گزر کر جاتی ہے

اب کوچۂ دلبر کا رہ رو رہزن بھی بنے تو بات بنے

پہرے سے عدو ٹلتے ہی نہیں اور رات برابر جاتی ہے

ہم اہل قفس تنہا بھی نہیں ہر روز نسیم صبح وطن

یادوں سے معطر آتی ہے اشکوں سے منور جاتی ہے

About Faiz Ahmed Faiz (فیض احمد فیض)

فیض احمد فیض (1911–1984) برصغیر کے عظیم اردو شاعر تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ نقشِ فریادی، دستِ صبا، زنداں نامہ اور دستِ طہِ سنگ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی غزل ”مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ“ اردو ادب کی سب سے مشہور غزلوں میں شمار ہوتی ہے۔

Read all poetry by Faiz Ahmed Faiz

More Urdu poetry by Faiz Ahmed Faiz