Prof. Syed Mujahid Sajjad

کیے آرزو سے پیماں جو مآل تک نہ پہنچے

Faiz Ahmed Faiz

نسخہ ہائے وفا

Published 12 October 2026

کیے آرزو سے پیماں جو مآل تک نہ پہنچے

شب و روز آشنائی مہ و سال تک نہ پہنچے

وہ نظر بہم نہ پہنچی کہ محیط حسن کرتے

تری دید کے وسیلے خد و خال تک نہ پہنچے

وہی چشمۂ بقا تھا جسے سب سراب سمجھے

وہی خواب معتبر تھے جو خیال تک نہ پہنچے

ترا لطف وجہ تسکیں نہ قرار شرح غم سے

کہ ہیں دل میں وہ گلے بھی جو ملال تک نہ پہنچے

کوئی یار جاں سے گزرا کوئی ہوش سے نہ گزرا

یہ ندیم یک دو ساغر مرے حال تک نہ پہنچے

چلو فیضؔ دل جلائیں کریں پھر سے عرض جاناں

وہ سخن جو لب تک آئے پہ سوال تک نہ پہنچے

About Faiz Ahmed Faiz (فیض احمد فیض)

فیض احمد فیض (1911–1984) برصغیر کے عظیم اردو شاعر تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ نقشِ فریادی، دستِ صبا، زنداں نامہ اور دستِ طہِ سنگ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی غزل ”مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ“ اردو ادب کی سب سے مشہور غزلوں میں شمار ہوتی ہے۔

Read all poetry by Faiz Ahmed Faiz

More Urdu poetry by Faiz Ahmed Faiz