جمے گی کیسے بساط یاراں کہ شیشہ و جام بجھ گئے ہیں
نسخہ ہائے وفا
Published 12 October 2026
جمے گی کیسے بساط یاراں کہ شیشہ و جام بجھ گئے ہیں
سجے گی کیسے شب نگاراں کہ دل سر شام بجھ گئے ہیں
وہ تیرگی ہے رہ بتاں میں چراغ رخ ہے نہ شمع وعدہ
کرن کوئی آرزو کی لاؤ کہ سب در و بام بجھ گئے ہیں
بہت سنبھالا وفا کا پیماں مگر وہ برسی ہے اب کے برکھا
ہر ایک اقرار مٹ گیا ہے تمام پیغام بجھ گئے ہیں
قریب آ اے مہ شب غم نظر پہ کھلتا نہیں کچھ اس دم
کہ دل پہ کس کس کا نقش باقی ہے کون سے نام بجھ گئے ہیں
بہار اب آ کے کیا کرے گی کہ جن سے تھا جشن رنگ و نغمہ
وہ گل سر شاخ جل گئے ہیں وہ دل تہ دام بجھ گئے ہیں
About Faiz Ahmed Faiz (فیض احمد فیض)
فیض احمد فیض (1911–1984) برصغیر کے عظیم اردو شاعر تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ نقشِ فریادی، دستِ صبا، زنداں نامہ اور دستِ طہِ سنگ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی غزل ”مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ“ اردو ادب کی سب سے مشہور غزلوں میں شمار ہوتی ہے۔
More Urdu poetry by Faiz Ahmed Faiz
- ربّا سچیا توں آکھیاسی (Poem)
- دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے (Ghazal)
- گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے (Ghazal)
- آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے (Ghazal)