Prof. Syed Mujahid Sajjad

جمے گی کیسے بساط یاراں کہ شیشہ و جام بجھ گئے ہیں

Faiz Ahmed Faiz

نسخہ ہائے وفا

Published 12 October 2026

جمے گی کیسے بساط یاراں کہ شیشہ و جام بجھ گئے ہیں

سجے گی کیسے شب نگاراں کہ دل سر شام بجھ گئے ہیں

وہ تیرگی ہے رہ بتاں میں چراغ رخ ہے نہ شمع وعدہ

کرن کوئی آرزو کی لاؤ کہ سب در و بام بجھ گئے ہیں

بہت سنبھالا وفا کا پیماں مگر وہ برسی ہے اب کے برکھا

ہر ایک اقرار مٹ گیا ہے تمام پیغام بجھ گئے ہیں

قریب آ اے مہ شب غم نظر پہ کھلتا نہیں کچھ اس دم

کہ دل پہ کس کس کا نقش باقی ہے کون سے نام بجھ گئے ہیں

بہار اب آ کے کیا کرے گی کہ جن سے تھا جشن رنگ و نغمہ

وہ گل سر شاخ جل گئے ہیں وہ دل تہ دام بجھ گئے ہیں

About Faiz Ahmed Faiz (فیض احمد فیض)

فیض احمد فیض (1911–1984) برصغیر کے عظیم اردو شاعر تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ نقشِ فریادی، دستِ صبا، زنداں نامہ اور دستِ طہِ سنگ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی غزل ”مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ“ اردو ادب کی سب سے مشہور غزلوں میں شمار ہوتی ہے۔

Read all poetry by Faiz Ahmed Faiz

More Urdu poetry by Faiz Ahmed Faiz