ایک رہگزر پر
نسخہ ہائے وفا
Published 12 October 2026
وہ جس کی دید میں لاکھوں مسرتیں پنہاں
وہ حسن جس کی تمنا میں جنتیں پنہاں
ہزار فتنے تہ پائے ناز خاک نشیں
ہر اک نگاہ خمار شباب سے رنگیں
شباب جس سے تخیل پہ بجلیاں برسیں
وقار جس کی رفاقت کو شوخیاں ترسیں
ادائے لغزش پا پر قیامتیں قرباں
بیاض رخ پہ سحر کی صباحتیں قرباں
سیاہ زلفوں میں وارفتہ نکہتوں کا ہجوم
طویل راتوں کی خوابیدہ راحتوں کا ہجوم
وہ آنکھ جس کے بناؤ پہ خالق اترائے
زبان شعر کو تعریف کرتے شرم آئے
وہ ہونٹ فیض سے جن کے بہار لالہ فروش
بہشت و کوثر و تسنیم و سلسبیل بہ دوش
گداز جسم قبا جس پہ سج کے ناز کرے
دراز قد جسے سرو سہی نماز کرے
غرض وہ حسن جو محتاج وصف و نام نہیں
وہ حسن جس کا تصور بشر کا کام نہیں
کسی زمانے میں اس رہگزر سے گزرا تھا
بصد غرور و تجمل ادھر سے گزرا تھا
اور اب یہ راہگزر بھی ہے دل فریب و حسیں
ہے اس کی خاک میں کیف شراب و شعر مکیں
ہوا میں شوخیٔ رفتار کی ادائیں ہیں
فضا میں نرمیٔ گفتار کی صدائیں ہیں
غرض وہ حسن اب اس رہ کا جزو منظر ہے
نیاز عشق کو اک سجدہ گہ میسر ہے
About Faiz Ahmed Faiz (فیض احمد فیض)
فیض احمد فیض (1911–1984) برصغیر کے عظیم اردو شاعر تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ نقشِ فریادی، دستِ صبا، زنداں نامہ اور دستِ طہِ سنگ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی غزل ”مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ“ اردو ادب کی سب سے مشہور غزلوں میں شمار ہوتی ہے۔
More Urdu poetry by Faiz Ahmed Faiz
- ربّا سچیا توں آکھیاسی (Poem)
- دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے (Ghazal)
- گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے (Ghazal)
- آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے (Ghazal)