Prof. Syed Mujahid Sajjad

ایک رہگزر پر

Faiz Ahmed Faiz

نسخہ ہائے وفا

Published 12 October 2026

وہ جس کی دید میں لاکھوں مسرتیں پنہاں

وہ حسن جس کی تمنا میں جنتیں پنہاں

ہزار فتنے تہ پائے ناز خاک نشیں

ہر اک نگاہ خمار شباب سے رنگیں

شباب جس سے تخیل پہ بجلیاں برسیں

وقار جس کی رفاقت کو شوخیاں ترسیں

ادائے لغزش پا پر قیامتیں قرباں

بیاض رخ پہ سحر کی صباحتیں قرباں

سیاہ زلفوں میں وارفتہ نکہتوں کا ہجوم

طویل راتوں کی خوابیدہ راحتوں کا ہجوم

وہ آنکھ جس کے بناؤ پہ خالق اترائے

زبان شعر کو تعریف کرتے شرم آئے

وہ ہونٹ فیض سے جن کے بہار لالہ فروش

بہشت و کوثر و تسنیم و سلسبیل بہ دوش

گداز جسم قبا جس پہ سج کے ناز کرے

دراز قد جسے سرو سہی نماز کرے

غرض وہ حسن جو محتاج وصف و نام نہیں

وہ حسن جس کا تصور بشر کا کام نہیں

کسی زمانے میں اس رہگزر سے گزرا تھا

بصد غرور و تجمل ادھر سے گزرا تھا

اور اب یہ راہگزر بھی ہے دل فریب و حسیں

ہے اس کی خاک میں کیف شراب و شعر مکیں

ہوا میں شوخیٔ رفتار کی ادائیں ہیں

فضا میں نرمیٔ گفتار کی صدائیں ہیں

غرض وہ حسن اب اس رہ کا جزو منظر ہے

نیاز عشق کو اک سجدہ گہ میسر ہے

About Faiz Ahmed Faiz (فیض احمد فیض)

فیض احمد فیض (1911–1984) برصغیر کے عظیم اردو شاعر تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ نقشِ فریادی، دستِ صبا، زنداں نامہ اور دستِ طہِ سنگ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی غزل ”مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ“ اردو ادب کی سب سے مشہور غزلوں میں شمار ہوتی ہے۔

Read all poetry by Faiz Ahmed Faiz

More Urdu poetry by Faiz Ahmed Faiz