Prof. Syed Mujahid Sajjad

چند روز اور مری جان

Faiz Ahmed Faiz

نسخہ ہائے وفا

Published 12 October 2026

چند روز اور مری جان فقط چند ہی روز

ظلم کی چھاؤں میں دم لینے پہ مجبور ہیں ہم

اور کچھ دیر ستم سہہ لیں تڑپ لیں رو لیں

اپنے اجداد کی میراث ہے معذور ہیں ہم

جسم پر قید ہے جذبات پہ زنجیریں ہیں

فکر محبوس ہے گفتار پہ تعزیریں ہیں

اپنی ہمت ہے کہ ہم پھر بھی جیے جاتے ہیں

زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں

ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں

لیکن اب ظلم کی میعاد کے دن تھوڑے ہیں

اک ذرا صبر کہ فریاد کے دن تھوڑے ہیں

عرصۂ دہر کی جھلسی ہوئی ویرانی میں

ہم کو رہنا ہے پہ یوں ہی تو نہیں رہنا ہے

اجنبی ہاتھوں کا بے نام گراں بار ستم

آج سہنا ہے ہمیشہ تو نہیں سہنا ہے

یہ ترے حسن سے لپٹی ہوئی آلام کی گرد

اپنی دو روزہ جوانی کی شکستوں کا شمار

چاندنی راتوں کا بے کار دہکتا ہوا درد

دل کی بے سود تڑپ جسم کی مایوس پکار

چند روز اور مری جان فقط چند ہی روز

About Faiz Ahmed Faiz (فیض احمد فیض)

فیض احمد فیض (1911–1984) برصغیر کے عظیم اردو شاعر تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ نقشِ فریادی، دستِ صبا، زنداں نامہ اور دستِ طہِ سنگ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی غزل ”مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ“ اردو ادب کی سب سے مشہور غزلوں میں شمار ہوتی ہے۔

Read all poetry by Faiz Ahmed Faiz

More Urdu poetry by Faiz Ahmed Faiz