اب وہی حرف جنوں سب کی زباں ٹھہری ہے
نسخہ ہائے وفا
Published 12 October 2026
اب وہی حرف جنوں سب کی زباں ٹھہری ہے
جو بھی چل نکلی ہے وہ بات کہاں ٹھہری ہے
آج تک شیخ کے اکرام میں جو شے تھی حرام
اب وہی دشمن دیں راحت جاں ٹھہری ہے
ہے خبر گرم کہ پھرتا ہے گریزاں ناصح
گفتگو آج سر کوئے بتاں ٹھہری ہے
ہے وہی عارض لیلیٰ وہی شیریں کا دہن
نگہ شوق گھڑی بھر کو جہاں ٹھہری ہے
وصل کی شب تھی تو کس درجہ سبک گزری تھی
ہجر کی شب ہے تو کیا سخت گراں ٹھہری ہے
بکھری اک بار تو ہاتھ آئی ہے کب موج شمیم
دل سے نکلی ہے تو کب لب پہ فغاں ٹھہری ہے
دست صیاد بھی عاجز ہے کف گلچیں بھی
بوئے گل ٹھہری نہ بلبل کی زباں ٹھہری ہے
آتے آتے یوں ہی دم بھر کو رکی ہوگی بہار
جاتے جاتے یوں ہی پل بھر کو خزاں ٹھہری ہے
ہم نے جو طرز فغاں کی ہے قفس میں ایجاد
فیضؔ گلشن میں وہی طرز بیاں ٹھہری ہے
About Faiz Ahmed Faiz (فیض احمد فیض)
فیض احمد فیض (1911–1984) برصغیر کے عظیم اردو شاعر تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ نقشِ فریادی، دستِ صبا، زنداں نامہ اور دستِ طہِ سنگ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی غزل ”مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ“ اردو ادب کی سب سے مشہور غزلوں میں شمار ہوتی ہے۔
More Urdu poetry by Faiz Ahmed Faiz
- ربّا سچیا توں آکھیاسی (Poem)
- دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے (Ghazal)
- گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے (Ghazal)
- آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے (Ghazal)