آج اک حرف کو پھر ڈھونڈتا پھرتا ہے خیال
Published 12 October 2026
آج اک حرف کو پھر ڈھونڈتا پھرتا ہے خیال
مدھ بھرا حرف کوئی زہر بھرا حرف کوئی
دل نشیں حرف کوئی قہر بھرا حرف کوئی
حرف الفت کوئی دل دار نظر ہو جیسے
جس سے ملتی ہے نظر بوسۂ لب کی صورت
اتنا روشن کہ سر موجۂ زر ہو جیسے
صحبت یار میں آغاز طرب کی صورت
حرف نفرت کوئی شمشیر غضب ہو جیسے
تا ابد شہر ستم جس سے تبہ ہو جائیں
اتنا تاریک کہ شمشان کی شب ہو جیسے
لب پہ لاؤں تو مرے ہونٹ سیہ ہو جائیں
آج ہر سر سے ہر اک راگ کا ناتا ٹوٹا
ڈھونڈتی پھرتی ہے مطرب کو پھر اس کی آواز
جوشش درد سے مجنوں کے گریباں کی طرح
چاک در چاک ہوا آج ہر اک پردۂ ساز
آج ہر موج ہوا سے ہے سوالی خلقت
لا کوئی نغمہ کوئی صوت تری عمر دراز
نوحۂ غم ہی سہی شور شہادت ہی سہی
صور محشر ہی سہی بانگ قیامت ہی سہی
About Faiz Ahmed Faiz (فیض احمد فیض)
فیض احمد فیض (1911–1984) برصغیر کے عظیم اردو شاعر تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ نقشِ فریادی، دستِ صبا، زنداں نامہ اور دستِ طہِ سنگ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی غزل ”مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ“ اردو ادب کی سب سے مشہور غزلوں میں شمار ہوتی ہے۔
More Urdu poetry by Faiz Ahmed Faiz
- ربّا سچیا توں آکھیاسی (Poem)
- دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے (Ghazal)
- گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے (Ghazal)
- آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے (Ghazal)