Prof. Syed Mujahid Sajjad

مانندِ گل ہیں‌ میرے جگر میں‌ چراغِ داغ

داغ دہلوی

کلیاتِ داغ

Published 14 October 2026

مانندِ گل ہیں‌ میرے جگر میں‌ چراغِ داغ

پروانے دیکھتے ہیں تماشائے باغِ داغ

مرگِ عدو سے آپ کے دل میں چھپُا نہ ہو

میرے جگر میں اب نہیں ملتا سراغِ داغ

دل میں قمر کے جب سے ملی ہے اسے جگہ

اس دن سے ہو گیا ہے فلک پر دماغِ داغ

تاریکیِ لحد سے نہیں دل جلے کو خوف

روشن رہے گا تا بہ قیامت چراغِ داغ

مولا نے اپنے فضل و کرم سے بچا لیا

رہتا وگرنہ ایک زمانے کو داغِ داغ

داغ دہلوی

About Dagh Dehlvi (داغ دہلوی)

داغ دہلوی (1831 – 1905) اردو غزل کے ممتاز شاعر تھے۔ اپنی سادہ اور دلکش زبان اور شاگردوں کی تربیت کے لیے مشہور ہوئے۔

Read all poetry by Dagh Dehlvi

More Urdu poetry by Dagh Dehlvi