Prof. Syed Mujahid Sajjad

آئینہ تصویر کا تیرے نہ لے کر رکھ دیا

داغ دہلوی

کلیاتِ داغ

Published 14 October 2026

آئینہ تصویر کا تیرے نہ لے کر رکھ دیا

بو سے لینے کے لئے کعبے میں پتھر رکھ دیا

ہم نے ان کے سامنے اول تو خنجر رکھ دیا

پھر کلیجا رکھ دیا دل رکھ دیا سر رکھ دیا

زندگی میں پاس سے دم بھر نہ ہوتے تھے جدا

قبر میں تنہا مجھے یاروں نے کیونکر رکھ دیا

دیکھئے اب ٹھوکریں کھاتی ہے کس کس کی نگاہ

روزن دیوار میں ظالم نے پتھر رکھ دیا

زلف خالی ہاتھ خالی کس جگہ ڈھونڈیں اسے

تم نے دل لے کر کہاں اے بندہ پرور رکھ دیا

داغ کی شامت جو آئی اضطراب شوق میں

حال دل کمبخت نے سب ان کے منہ پر رکھ دیا

داغ دہلوی

About Dagh Dehlvi (داغ دہلوی)

داغ دہلوی (1831 – 1905) اردو غزل کے ممتاز شاعر تھے۔ اپنی سادہ اور دلکش زبان اور شاگردوں کی تربیت کے لیے مشہور ہوئے۔

Read all poetry by Dagh Dehlvi

More Urdu poetry by Dagh Dehlvi