Prof. Syed Mujahid Sajjad

اچھی صورت پہ غضب ٹوٹ کے آنا دل کا

داغ دہلوی

کلیاتِ داغ

Published 14 October 2026

اچھی صورت پہ غضب ٹوٹ کے آنا دل کا

یاد آتا ہے ہمیں ہائے زمانہ دل کا

تم بھی چوم لو، بے ساختہ پیار آ جائے

میں سناؤں جو کبھی دل سے فسانہ دل کا

ان حسینوں کا لڑکپن ہی رہے یا اللہ

ہوش آتا ہے تو آتا ہے ستانا دل کا

پوری مہندی بھی لگانی نہیں آئی اب تک

کیوں کر آیا تجھے غیروں سے لگانا دل کا

حور کی شکل ہو تم، نور کے پتلے ہو تم

اور اس پر تمہیں آتا ہے جلانا دل کا

بعد مدت کے یہ اے داغ سمجھ میں آیا

وہی دانا ہے، کہا جس نے نہ مانا دل کا

داغ دہلوی

About Dagh Dehlvi (داغ دہلوی)

داغ دہلوی (1831 – 1905) اردو غزل کے ممتاز شاعر تھے۔ اپنی سادہ اور دلکش زبان اور شاگردوں کی تربیت کے لیے مشہور ہوئے۔

Read all poetry by Dagh Dehlvi

More Urdu poetry by Dagh Dehlvi