یارِ دیرینہ ہے پر روز ہے وہ یار نیا
کلیاتِ ظفر
Published 14 October 2026
یارِ دیرینہ ہے پر روز ہے وہ یار نیا
ہر ستم اس کا نیا اس کا ہے ہر پیار نیا
نئی انداز کا ہے دامِ بلا طرۂ یار
روز ہے ایک نہ اک اس میں گرفتار نیا
تیری ہاں میں ہے نہیں اور نہیں میں ہے ہاں
تیرا اقرار نیا ہے ترا انکار نیا
کیسے بیدرد دلِ آزار کو دل ہم نے دیا
روز ہے درد نیا، روز اک آزار نیا
کیا قیامت ہے ستمگار تری طرزِ خرام
فتنہ ہر گام پہ اٹھا دمِ رفتار نیا
کریں وہ کس کی دوا دیکھتے ہیں رو ز طبیب
تیرے اس نرگسِ بیمار کا بیمار نیا
پھیر لے اس سے ظفر دل کا جو سودا پھر جائے
ایک موجود ہے اور اس کا خریدار نیا
(بہادر شاہ ظفر)
About Bahadur Shah Zafar (بہادر شاہ ظفر)
بہادر شاہ ظفر (1775 – 1862) مغلیہ سلطنت کے آخری تاجدار اور ایک باصلاحیت اردو شاعر تھے۔ ان کی غزلوں میں صوفیانہ اور رنجیدہ رنگ نمایاں ہے۔