زلف جو رخ پر ترے اے مہر طلعت کھل گئی
کلیاتِ ظفر
Published 14 October 2026
زلف جو رخ پر ترے اے مہر طلعت کھل گئی
ہم کو اپنی تیرہ روزی کی حقیقت کھل گئی
کیا تماشا ہے رگ لیلیٰ میں ڈوبا نیشتر
فصد مجنوں باعث جوش محبت کھل گئی
دل کا سودا اک نگہ پر ہے تری ٹھہرا ہوا
نرخ تو کیا پوچھتا ہے اب تو قیمت کھل گئی
آئنے کو ناز تھا کیا اپنے روئے صاف پر
آنکھ ہی پر دیکھتے ہی تیری صورت کھل گئی
تھی اسیران قفس کو آرزو پرواز کی
کھل گئی کھڑکی قفس کی کیا کہ قسمت کھل گئی
تیرے عارض پر ہوا آخر غبار خط نمود
کھل گئی آئینہ رو دل کی کدورت کھل گئی
بے تکلف آئے تم کھولے ہوئے بند قبا
اب گرہ دل کی ہمارے فی الحقیقت کھل گئی
باندھی زاہد نے توکل پر کمر سو بار چست
لیکن آخر باعث سستی ہمت کھل گئی
کھلتے کھلتے رک گئے وہ ان کو تو نے اے ظفرؔ
سچ کہو کس آنکھ سے دیکھا کہ چاہت کھل گئی
About Bahadur Shah Zafar (بہادر شاہ ظفر)
بہادر شاہ ظفر (1775 – 1862) مغلیہ سلطنت کے آخری تاجدار اور ایک باصلاحیت اردو شاعر تھے۔ ان کی غزلوں میں صوفیانہ اور رنجیدہ رنگ نمایاں ہے۔