Prof. Syed Mujahid Sajjad

نباہ بات کا اس حیلہ گر سے کچھ نہ ہوا

بہادر شاہ ظفر

کلیاتِ ظفر

Published 14 October 2026

نباہ بات کا اس حیلہ گر سے کچھ نہ ہوا

ادھر سے کیا نہ ہوا پر ادھر سے کچھ نہ ہوا

جواب صاف تو لاتا اگر نہ لاتا خط

لکھا نصیب کا جو نامہ بر سے کچھ نہ ہوا

ہمیشہ فتنے ہی برپا کیے مرے سر پر

ہوا یہ اور تو اس فتنہ گر سے کچھ نہ ہوا

بلا سے گریۂ شب تو ہی کچھ اثر کرتا

اگرچہ عشق میں آہ سحر سے کچھ نہ ہوا

جلا جلا کے کیا شمع ساں تمام مجھے

بس اور تو مجھے سوز جگر سے کچھ نہ ہوا

رہیں عدو سے وہی گرم جوشیاں اس کی

اس آہ سرد اور اس چشم تر سے کچھ نہ ہوا

اٹھایا عشق میں کیا کیا نہ درد سر میں نے

حصول پر مجھے اس درد سر سے کچھ نہ ہوا

شب وصال میں بھی میری جان کو آرام

عزیزو درد جدائی کے ڈر سے کچھ نہ ہوا

نہ دوں گا دل اسے میں یہ ہمیشہ کہتا تھا

وہ آج لے ہی گیا اور ظفرؔ سے کچھ نہ ہوا

About Bahadur Shah Zafar (بہادر شاہ ظفر)

بہادر شاہ ظفر (1775 – 1862) مغلیہ سلطنت کے آخری تاجدار اور ایک باصلاحیت اردو شاعر تھے۔ ان کی غزلوں میں صوفیانہ اور رنجیدہ رنگ نمایاں ہے۔

Read all poetry by Bahadur Shah Zafar

More Urdu poetry by Bahadur Shah Zafar