Prof. Syed Mujahid Sajjad

کیونکہ ہم دنیا میں آئے کچھ سبب کھلتا نہیں

بہادر شاہ ظفر

کلیاتِ ظفر

Published 14 October 2026

کیونکہ ہم دنیا میں آئے کچھ سبب کھلتا نہیں

اک سبب کیا بھید واں کا سب کا سب کھلتا نہیں

پوچھتا ہے حال بھی گر وہ تو مارے شرم کے

غنچۂ تصویر کے مانند لب کھلتا نہیں

شاہد مقصود تک پہنچیں گے کیونکر دیکھیے

بند ہے باب تمنا ہے غضب کھلتا نہیں

بند ہے جس خانۂ زنداں میں دیوانہ تیرا

اس کا دروازہ پری رو روز و شب کھلتا نہیں

دل ہے یہ غنچہ نہیں ہے اس کا عقدہ اے صبا

کھولنے کا جب تلک آوے نہ ڈھب کھلتا نہیں

عشق نے جن کو کیا خاطر گرفتہ ان کا دل

لاکھ ہووے گرچہ سامان طرب کھلتا نہیں

کس طرح معلوم ہووے اس کے دل کا مدعا

مجھ سے باتوں میں ظفرؔ وہ غنچہ لب کھلتا نہیں

About Bahadur Shah Zafar (بہادر شاہ ظفر)

بہادر شاہ ظفر (1775 – 1862) مغلیہ سلطنت کے آخری تاجدار اور ایک باصلاحیت اردو شاعر تھے۔ ان کی غزلوں میں صوفیانہ اور رنجیدہ رنگ نمایاں ہے۔

Read all poetry by Bahadur Shah Zafar

More Urdu poetry by Bahadur Shah Zafar