Prof. Syed Mujahid Sajjad

جب کبھی دریا میں ہوتے سایہ افگن آپ ہیں

بہادر شاہ ظفر

کلیاتِ ظفر

Published 14 October 2026

جب کبھی دریا میں ہوتے سایہ افگن آپ ہیں

فلس ماہی کو بتاتے ماہ روشن آپ ہیں

سیتے ہیں سوزن سے چاک سینہ کیا اے چارہ ساز

خار غم سینے میں اپنے مثل سوزن آپ ہیں

پیار سے کر کے حمائل غیر کی گردن میں ہاتھ

مارتے تیغ ستم سے مجھ کو گردن آپ ہیں

کھینچ کر آنکھوں میں اپنی سرمۂ دنبالہ دار

کرتے پیدا سحر سے نرگس میں سوسن آپ ہیں

دیکھ کر صحرا میں مجھ کو پہلے گھبرایا تھا قیس

پھر جو پہچانا تو بولا حضرت من آپ ہیں

جی دھڑکتا ہے کہیں تار رگ گل چبھ نہ جائے

سیج پر پھولوں کی کرتے قصد خفتن آپ ہیں

کیا مزا ہے تیغ قاتل میں کہ اکثر صید عشق

آن کر اس پر رگڑتے اپنی گردن آپ ہیں

مجھ سے تم کیا پوچھتے ہو کیسے ہیں ہم کیا کہیں

جی ہی جانے ہے کہ جیسے مشفق من آپ ہیں

پر غرور و پر تکبر پر جفا و پر ستم

پر فریب و پر دغا پر مکر و پر فن آپ ہیں

ظلم پیشہ ظلم شیوہ ظلم ران و ظلم دوست

دشمن دل دشمن جاں دشمن تن آپ ہیں

یکہ تاز و نیزہ باز و عربدہ جو تند خو

تیغ زن دشنہ گزار و ناوک افگن آپ ہیں

تسمہ کش طراز و غارت گر تاراج ساز

کافر یغمائی و قزاق رہزن آپ ہیں

فتنہ جو بیداد گر سفاک و اظلم کینہ ور

گرم جنگ و گرم قتل و گرم کشتن آپ ہیں

بد مزاج و بد دماغ و بد شعار و بد سلوک

بد طریق و بد زباں بد عہد و بد ظن آپ ہیں

بے مروت بے وفا نا مہرباں نا آشنا

میرے قاتل میرے حاسد میرے دشمن آپ ہیں

اے ظفرؔ کیا پائے قاتل کے ہے بوسے کی ہوس

یوں جو بسمل ہو کے سرگرم طپیدن آپ ہیں

About Bahadur Shah Zafar (بہادر شاہ ظفر)

بہادر شاہ ظفر (1775 – 1862) مغلیہ سلطنت کے آخری تاجدار اور ایک باصلاحیت اردو شاعر تھے۔ ان کی غزلوں میں صوفیانہ اور رنجیدہ رنگ نمایاں ہے۔

Read all poetry by Bahadur Shah Zafar

More Urdu poetry by Bahadur Shah Zafar