Prof. Syed Mujahid Sajjad

ہجر کے ہاتھ سے اب خاک پڑے جینے میں

بہادر شاہ ظفر

کلیاتِ ظفر

Published 14 October 2026

ہجر کے ہاتھ سے اب خاک پڑے جینے میں

درد اک اور اٹھا آہ نیا سینے میں

خون دل پینے سے جو کچھ ہے حلاوت ہم کو

یہ مزا اور کسی کو نہیں مے پینے میں

دل کو کس شکل سے اپنے نہ مصفا رکھوں

جلوہ گر یار کی صورت ہے اس آئینے میں

اشک و لخت جگر آنکھوں میں نہیں ہیں میرے

ہیں بھرے لال و گہر عشق کے گنجینے میں

شکل آئینہ ظفرؔ سے تو نہ رکھ دل میں خیال

کچھ مزا بھی ہے بھلا جان مری لینے میں

About Bahadur Shah Zafar (بہادر شاہ ظفر)

بہادر شاہ ظفر (1775 – 1862) مغلیہ سلطنت کے آخری تاجدار اور ایک باصلاحیت اردو شاعر تھے۔ ان کی غزلوں میں صوفیانہ اور رنجیدہ رنگ نمایاں ہے۔

Read all poetry by Bahadur Shah Zafar

More Urdu poetry by Bahadur Shah Zafar