گالیاں تنخواہ ٹھہری ہے اگر بٹ جائے گی
کلیاتِ ظفر
Published 14 October 2026
گالیاں تنخواہ ٹھہری ہے اگر بٹ جائے گی
عاشقوں کے گھر مٹھائی لب شکر بٹ جائے گی
روبرو گر ہوگا یوسف اور تو آ جائے گا
اس کی جانب سے زلیخا کی نظر بٹ جائے گی
رہزنوں میں ناز و غمزہ کی یہ جنس دین و دل
جوں متاع بردہ آخر ہم دگر بٹ جائے گی
ہوگا کیا گر بول اٹھے غیر باتوں میں مری
پھر طبیعت میری اے بیداد گر بٹ جائے گی
دولت دنیا نہیں جانے کی ہرگز تیرے ساتھ
بعد تیرے سب یہیں اے بے خبر بٹ جائے گی
کر لے اے دل جان کو بھی رنج و غم میں تو شریک
یہ جو محنت تجھ پہ ہے کچھ کچھ مگر بٹ جائے گی
مونگ چھاتی پہ جو دلتے ہیں کسی کی دیکھنا
جوتیوں میں دال ان کی اے ظفرؔ بٹ جائے گی
About Bahadur Shah Zafar (بہادر شاہ ظفر)
بہادر شاہ ظفر (1775 – 1862) مغلیہ سلطنت کے آخری تاجدار اور ایک باصلاحیت اردو شاعر تھے۔ ان کی غزلوں میں صوفیانہ اور رنجیدہ رنگ نمایاں ہے۔