دیکھو انساں خاک کا پتلا بنا کیا چیز ہے
کلیاتِ ظفر
Published 14 October 2026
دیکھو انساں خاک کا پتلا بنا کیا چیز ہے
بولتا ہے اس میں کیا وہ بولتا کیا چیز ہے
روبرو اس زلف کے دام بلا کیا چیز ہے
اس نگہ کے سامنے تیر قضا کیا چیز ہے
یوں تو ہیں سارے بتاں غارتگر ایمان و دیں
ایک وہ کافر صنم نام خدا کیا چیز ہے
جس نے دل میرا دیا دام محبت میں پھنسا
وہ نہیں معلوم مج کو ناصحا کیا چیز ہے
ہووے اک قطرہ جو زہراب محبت کا نصیب
خضر پھر تو چشمۂ آب بقا کیا چیز ہے
مرگ ہی صحت ہے اس کی مرگ ہی اس کا علاج
عشق کا بیمار کیا جانے دوا کیا چیز ہے
دل مرا بیٹھا ہے لے کر پھر مجھی سے وہ نگار
پوچھتا ہے ہاتھ میں میرے بتا کیا چیز ہے
خاک سے پیدا ہوئے ہیں دیکھ رنگا رنگ گل
ہے تو یہ ناچیز لیکن اس میں کیا کیا چیز ہے
جس کی تجھ کو جستجو ہے وہ تجھی میں ہے ظفرؔ
ڈھونڈتا پھر پھر کے تو پھر جا بجا کیا چیز ہے
About Bahadur Shah Zafar (بہادر شاہ ظفر)
بہادر شاہ ظفر (1775 – 1862) مغلیہ سلطنت کے آخری تاجدار اور ایک باصلاحیت اردو شاعر تھے۔ ان کی غزلوں میں صوفیانہ اور رنجیدہ رنگ نمایاں ہے۔