کبھی بن سنور کے جو آگئے تو بہار حسن دکھا گئے
کلیاتِ ظفر
Published 14 October 2026
کبھی بن سنور کے جو آگئے تو بہار حسن دکھا گئے
میرے دل کو داغ لگا گئے، یہ نیا شگوفہ دکھا گئے
کوئی کیوں کسی کا لبھائے دل کوئی کیا کسی سے لگائے دل
وہ جو بیچتے تھے دوائے دل وہ دکان اپنی بڑھا گئے
مرے پاس آتے تھے دم بدم، وہ جدا نہ ہوتے تھے ایک دم
یہ دکھایا چرخ نے کیا ستم کہ مجھ ہی سے آنکھ چرا گئے
جو ملاتے تھے میرے منہ سے منہ، کبھی لب سے لب، کبھی دل سے دل
جو غرور تھا، وہ انھیں یہ تھا، وہ سبھی غرور کو ڈھا گئے
بندھے کیوں نہ آنسوؤں کی جھڑی کہ یہ حسرت ان کے گلے پڑی
وہ جو کاکلیں تھیں بڑی بڑی وہ انہی کے بیچ میں آگئے
بہادر شاہ ظفر
About Bahadur Shah Zafar (بہادر شاہ ظفر)
بہادر شاہ ظفر (1775 – 1862) مغلیہ سلطنت کے آخری تاجدار اور ایک باصلاحیت اردو شاعر تھے۔ ان کی غزلوں میں صوفیانہ اور رنجیدہ رنگ نمایاں ہے۔