Prof. Syed Mujahid Sajjad

جگر کے ٹکڑے ہوئے جل کے دل کباب ہوا

بہادر شاہ ظفر

کلیاتِ ظفر

Published 14 October 2026

جگر کے ٹکڑے ہوئے جل کے دل کباب ہوا

یہ عشق جان کو میرے کوئی عذاب ہوا

کیا جو قتل مجھے تم نے خوب کام کیا

کہ میں عذاب سے چھوٹا تمہیں ثواب ہوا

کبھی تو شیفتہ اس نے کہا کبھی شیدا

غرض کہ روز نیا اک مجھے خطاب ہوا

پیوں نہ رشک سے خوں کیونکہ دم بہ دم اپنا

کہ ساتھ غیر کے وہ آج ہم شراب ہوا

تمہارے لب کے لبِ جام نے لیے بوسے

لب اپنے کاٹا کیا میں نہ کامیاب ہوا

گلی گلی تری خاطر پھرا بچشم پر آب

لگا کے تجھ سے دل اپنا بہت خراب ہوا

تری گلی میں بہائے پھرے ہے سیل سرشک

ہمارا کاسۂ سر کیا ہوا حباب ہوا

جواب خط کے نہ لکھنے سے یہ ہوا معلوم

کہ آج سے ہمیں اے نامہ بر جواب ہوا

منگائی تھی تری تصویر دل کی تسکیں کو

مجھے تو دیکھتے ہی اور اضطراب ہوا

ستم تمہارے بہت اور دن حساب کا ایک

مجھے ہے سوچ یہ ہی کس طرح حساب ہوا

ظفرؔ بدل کے ردیف اور تو غزل وہ سنا

کہ جس کا تجھ سے ہر اک شعر انتخاب ہوا

About Bahadur Shah Zafar (بہادر شاہ ظفر)

بہادر شاہ ظفر (1775 – 1862) مغلیہ سلطنت کے آخری تاجدار اور ایک باصلاحیت اردو شاعر تھے۔ ان کی غزلوں میں صوفیانہ اور رنجیدہ رنگ نمایاں ہے۔

Read all poetry by Bahadur Shah Zafar

More Urdu poetry by Bahadur Shah Zafar