Prof. Syed Mujahid Sajjad

گُلشن میں جب ادا سے وہ رنگِیں ادا ہنسے

بہادر شاہ ظفر

کلیاتِ ظفر

Published 14 October 2026

گُلشن میں جب ادا سے وہ رنگِیں ادا ہنسے

غُنچے کا مُنہ ہے کیا کہ جو پھر اے صبا ہنسے

دِیوانے کو نہیں تِرے پروا، کہ اے پری !

دِیوانگی پہ میری کوئی روئے یا ہنسے

روئے غمِ فِراق میں برسوں ہم، اے فلک

گر وصل کی خوشی میں کبھی اِک ذرا ہنسے

چارہ کرے اگر تِرے بِیمارِ عِشق کا

تدبِیرِ چارہ ساز پہ، کیا کیا قضا ہنسے

جو دِل گرفتہ غُنچۂ تصوِیر ہو ظفر

پھر اُس کو کیا ہنسائے کوئی اور وہ کیا ہنسے

About Bahadur Shah Zafar (بہادر شاہ ظفر)

بہادر شاہ ظفر (1775 – 1862) مغلیہ سلطنت کے آخری تاجدار اور ایک باصلاحیت اردو شاعر تھے۔ ان کی غزلوں میں صوفیانہ اور رنجیدہ رنگ نمایاں ہے۔

Read all poetry by Bahadur Shah Zafar

More Urdu poetry by Bahadur Shah Zafar