رنج اور رنج بھی تنہائی کا
کلیاتِ حالی
Published 14 October 2026
رنج اور رنج بھی تنہائی کا
وقت پہنچا مری رسوائی کا
عمر شاید نہ کرے آج وفا
کاٹنا ہے شب تنہائی کا
تم نے کیوں وصل میں پہلو بدلا
کس کو دعویٰ ہے شکیبائی کا
ایک دن راہ پہ جا پہنچے ہم
شوق تھا بادیہ پیمائی کا
اس سے نادان ہی بن کر ملیے
کچھ اجارہ نہیں دانائی کا
سات پردوں میں نہیں ٹھہرتی آنکھ
حوصلہ کیا ہے تماشائی کا
درمیاں پائے نظر ہے جب تک
ہم کو دعویٰ نہیں بینائی کا
کچھ تو ہے قدر تماشائی کی
ہے جو یہ شوق خود آرائی کا
اس کو چھوڑا تو ہے لیکن اے دل
مجھ کو ڈر ہے تری خود رائی کا
بزم دشمن میں نہ جی سے اترا
پوچھنا کیا تری زیبائی کا
یہی انجام تھا اے فصل خزاں
گل و بلبل کی شناسائی کا
مدد اے جذبۂ توفیق کہ یاں
ہو چکا کام توانائی کا
محتسب عذر بہت ہیں لیکن
اذن ہم کو نہیں گویائی کا
ہوں گے حالیؔ سے بہت آوارہ
گھر ابھی دور ہے رسوائی کا
About Altaf Hussain Hali (الطاف حسین حالی)
الطاف حسین حالی (1837 – 1914) شاعر، ناقد اور سوانح نگار تھے اور غالب سے قریب رہے۔ ان کی مسدس اردو کی مشہور ترین نظموں میں سے ہے۔