Prof. Syed Mujahid Sajjad

اے وطن اے مرے بہشت بریں

الطاف حسین حالی

کلیاتِ حالی

Published 14 October 2026

اے وطن اے مرے بہشت بریں

کیا ہوئے تیرے آسمان زمیں

رات اور دن کا وہ سماں نہ رہا

وہ زمیں اور وہ آسماں نہ رہا

سچ بتا تو سبھی کو بھاتا ہے

یا کہ مجھ سے ہی تیرا ناتا ہے

میں ہی کرتا ہوں تجھ پہ جان نثار

یا کہ دنیا ہے تیری عاشق زار

کیا زمانے کو تو عزیز نہیں

اے وطن تو تو ایسی چیز نہیں

جن و انسان کی حیات ہے تو

مرغ و ماہی کی کائنات ہے تو

ہے نباتات کا نمو تجھ سے

روکھ تجھ بن ہرے نہیں ہوتے

سب کو ہوتا ہے تجھ سے نشو و نما

سب کو بھاتی ہے تیری آب و ہوا

تیری اک مشت خاک کے بدلے

لوں نہ ہرگز اگر بہشت ملے

جان جب تک نہ ہو بدن سے جدا

کوئی دشمن نہ ہو وطن سے جدا

بیٹھے بے فکر کیا ہو ہم وطنو

اٹھو اہل وطن کے دوست بنو

تم اگر چاہتے ہو ملک کی خیر

نہ کسی ہم وطن کو سمجھو غیر

ہوں مسلمان اس میں یا ہندو

بودھ مذہب ہو یا کہ ہو برہمو

سب کو میٹھی نگاہ سے دیکھو

سمجھو آنکھوں کی پتلیاں سب کو

ملک ہیں اتفاق سے آزاد

شہر ہیں اتفاق سے آباد

ہند میں اتفاق ہوتا اگر

کھاتے غیروں کی ٹھوکریں کیونکر

قوم جب اتفاق کھو بیٹھی

اپنی پونجی سے ہاتھ دھو بیٹھی

ایک کا ایک ہو گیا بد خواہ

لگی غیروں کی تم پہ پڑنے نگاہ

پھر گئے بھائیوں سے جب بھائی

جو نہ آنی تھی وہ بلا آئی

پاؤں اقبال کے اکھڑنے لگے

ملک پر سب کے ہاتھ پڑنے لگے

کبھی تورانیوں نے گھر لوٹا

کبھی درانیوں نے زر لوٹا

کبھی نادر نے قتل عام کیا

کبھی محمود نے غلام کیا

سب سے آخر کو لے گئی بازی

ایک شائستہ قوم مغرب کی

ملک روندے گئے ہیں پیروں سے

چین کس کو ملا ہی غیروں سے

چھوڑو افسردگی کو جوش میں آؤ

بس بہت سوئے اٹھو ہوش میں آؤ

قافلے تم سے بڑھ گئے کوسوں

رہے جاتے ہو سب سے پیچھے کیوں

قافلوں سے اگر ملا چاہو

ملک اور قوم کا بھلا چاہو

گر رہا چاہتے ہو عزت سے

بھائیوں کو نکالو ذلت سے

قوم کا مبتذل ہے جو انساں

بے حقیقت ہے گرچہ ہے سلطاں

قوم دنیا میں جس کی ہے ممتاز

ہو فقیری میں بھی وہ با اعزاز

عزت قوم چاہتے ہو اگر

جا کے پھیلاؤ ان میں علم و ہنر

ذات کا فخر اور نسب کا غرور

اٹھ گئے اب جہاں سے یہ دستور

اب نہ سید کا افتخار صحیح

نہ برہمن کو شدر پر ترجیح

قوم کی عزت اب ہنر سے ہے

علم سے یا کہ سیم و زر سے ہے

کوئی دن میں وہ دور آئے گا

بے ہنر بھیک تک نہ پائے گا

نہ رہیں گے سدا یہی دن رات

یاد رکھنا ہماری آج کی بات

گر نہیں سنتے قول حالیؔ کا

پھر نہ کہنا کہ کوئی کہتا تھا

About Altaf Hussain Hali (الطاف حسین حالی)

الطاف حسین حالی (1837 – 1914) شاعر، ناقد اور سوانح نگار تھے اور غالب سے قریب رہے۔ ان کی مسدس اردو کی مشہور ترین نظموں میں سے ہے۔

Read all poetry by Altaf Hussain Hali

More Urdu poetry by Altaf Hussain Hali