غم فرقت ہی میں مرنا ہو تو دشوار نہیں
کلیاتِ حالی
Published 14 October 2026
غم فرقت ہی میں مرنا ہو تو دشوار نہیں
شادی وصل بھی عاشق کو سزاوار نہیں
خوبروئی کے لیے زشتیٔ خو بھی ہے ضرور
سچ تو یہ ہے کہ کوئی تجھ سا طرح دار نہیں
قول دینے میں تامل نہ قسم سے انکار
ہم کو سچا نظر آتا کوئی اقرار نہیں
کل خرابات میں اک گوشہ سے آتی تھی صدا
دل میں سب کچھ ہے مگر رخصت گفتار نہیں
حق ہوا کس سے ادا اس کی وفاداری کا
جس کے نزدیک جفا باعث آزار نہیں
دیکھتے ہیں کہ پہنچتی ہے وہاں کون سی راہ
کعبہ و دیر سے کچھ ہم کو سروکار نہیں
ہوں گے قائل وہ ابھی مطلع ثانی سن کر
جو تجلی میں یہ کہتے ہیں کہ تکرار نہیں
About Altaf Hussain Hali (الطاف حسین حالی)
الطاف حسین حالی (1837 – 1914) شاعر، ناقد اور سوانح نگار تھے اور غالب سے قریب رہے۔ ان کی مسدس اردو کی مشہور ترین نظموں میں سے ہے۔