Prof. Syed Mujahid Sajjad

دل سے خیال دوست بھلایا نہ جائے گا

الطاف حسین حالی

کلیاتِ حالی

Published 14 October 2026

دل سے خیال دوست بھلایا نہ جائے گا

سینے میں داغ ہے کہ مٹایا نہ جائے گا

تم کو ہزار شرم سہی مجھ کو لاکھ ضبط

الفت وہ راز ہے کہ چھپایا نہ جائے گا

اے دل رضائے غیر ہے شرط رضائے دوست

زنہار بار عشق اٹھایا نہ جائے گا

دیکھی ہیں ایسی ان کی بہت مہربانیاں

اب ہم سے منہ میں موت کے جایا نہ جائے گا

مے تند و ظرف حوصلۂ اہل بزم تنگ

ساقی سے ��ام بھر کے پلایا نہ جائے گا

راضی ہیں ہم کہ دوست سے ہو دشمنی مگر

دشمن کو ہم سے دوست بنایا نہ جائے گا

کیوں چھیڑتے ہو ذکر نہ ملنے کا رات کے

پوچھیں گے ہم سبب تو بتایا نہ جائے گا

بگڑیں نہ بات بات پہ کیوں جانتے ہیں وہ

ہم وہ نہیں کہ ہم کو منایا نہ جائے گا

ملنا ہے آپ سے تو نہیں حصر غیر پر

کس کس سے اختلاط بڑھایا نہ جائے گا

مقصود اپنا کچھ نہ کھلا لیکن اس قدر

یعنی وہ ڈھونڈتے ہیں جو پایا نہ جائے گا

جھگڑوں میں اہل دیں کے نہ حالیؔ پڑیں بس آپ

قصہ حضور سے یہ چکایا نہ جائے گا

About Altaf Hussain Hali (الطاف حسین حالی)

الطاف حسین حالی (1837 – 1914) شاعر، ناقد اور سوانح نگار تھے اور غالب سے قریب رہے۔ ان کی مسدس اردو کی مشہور ترین نظموں میں سے ہے۔

Read all poetry by Altaf Hussain Hali

More Urdu poetry by Altaf Hussain Hali