Prof. Syed Mujahid Sajjad

دھوم تھی اپنی پارسائی کی

الطاف حسین حالی

کلیاتِ حالی

Published 14 October 2026

دھوم تھی اپنی پارسائی کی

کی بھی اور کسی سے آشنائی کی

کیوں بڑھاتے ہو اختلاط بہت

ہم کو طاقت نہیں جدائی کی

منہ کہاں چھپاؤ گے ہم سے

تم کو عادت ہے خود نمائی کی

لاگ میں ہیں لگاؤ کی باتیں

صلح میں چھیڑ ہے لڑائی کی

ملتے غیروں سے ہو ملو لیکن

ہم سے باتیں کرو صفائی کی

دل رہا پائے بندِ الفت دام

تھی عبث آرزو رہائی کی

دل بھی پہلو میں ہو یاں کسی سے

رکھیے امید دلربائی کی

شہر و دریا سے باغ و صحرا سے

بو نہیں آتی آشنائی کی

نہ ملا کوئی غارتِ ایماں

رہ گئی شرم پارسائی کی

موت کی طرح جس سے ڈرتے تھے

ساعت آن پہنچی اس جدائی کی

زندہ پھرنے کی ہے ہوس حالیؔ

انتہا ہے یہ بے حیائی کی

الطاف حسین حالی

About Altaf Hussain Hali (الطاف حسین حالی)

الطاف حسین حالی (1837 – 1914) شاعر، ناقد اور سوانح نگار تھے اور غالب سے قریب رہے۔ ان کی مسدس اردو کی مشہور ترین نظموں میں سے ہے۔

Read all poetry by Altaf Hussain Hali

More Urdu poetry by Altaf Hussain Hali