بڑھاؤ نہ آپس میں ملت زیادہ
کلیاتِ حالی
Published 14 October 2026
بڑھاؤ نہ آپس میں ملت زیادہ
مبادا کے ہو جائے نفرت زیادہ
تکلف علامت ہے بیگانگی کی
نہ ڈالو تکلف کی عادت زیادہ
کرو دوستو پہلے آپ اپنی عزت
جو چاہو کریں لوگ عزت زیادہ
نکالو نہ رخنے نسب میں کسی کے
نہیں اس سے کوئی رذالت زیادہ
فراغت سے دنیا میں دم بھر نہ بیٹھو
اگر چاہتے ہو فراغت زیادہ
جہاں رام ہوتا ہے میٹھی زباں سے
نہیں لگتی کچھ اس میں دولت زیادہ
مصیبت کا ایک اک سے احوال کہنا
مصیبت سے ہے یہ مصیبت زیادہ
کرو ذکر کم اپنی داد و دہش کا
مبادا کہ ثابت ہو خست زیادہ
پھر اوروں کی تکتے پھرو گے سخاوت
بڑھاؤنہ حد سے سخاوت زیادہ
کہیں دوست تم سے نہ ہو جائیں بدظن
جتاؤ نہ اپنی محبت زیادہ
جو چاہو فقیری میں عزت سے رہنا
نہ رکھو امیروں سے ملت زیادہ
وہ افلاس اپنی چھپاتے ہیں گویا
جو دولت سے کرتے ہیں نفرت زیادہ
نہیں چھپتے عیب اتنی ثروت سے تیرے
خدا دے تجھے خواجہ ثروت زیادہ
ہے الفت بھی وحشت بھی دنیا سے لازم
پہ الف زیادہ ،نہ وحشت زیادہ
فرشتے سے بہتر ہے انسان بننا
مگر اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ
بکے مفت میں ہم زمانہ کے ہاتھوں
پہ دیکھا تو تھی یہ بھی قیمت زیادہ
ہوئی عمر دنیا کے دھندوں میں آخر
نہیں بس اب اے عقل مہلت زیادہ
غزل میں وہ رنگت نہیں تیری حالی
الاپیں نہ بس آپ دھرپت زیادہ
الطاف حالی
About Altaf Hussain Hali (الطاف حسین حالی)
الطاف حسین حالی (1837 – 1914) شاعر، ناقد اور سوانح نگار تھے اور غالب سے قریب رہے۔ ان کی مسدس اردو کی مشہور ترین نظموں میں سے ہے۔